Tuesday, January 2, 2018

Educational story

 عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں                           

                   
ایک بادشاہ کے دربار میں
ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،
قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔
(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)
بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،
اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا
جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.
چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،
اس نے کہا "نسلی نہیں ھے"
بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،،
اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.
مسئول کو بلایا گیا،
تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟
اس نے کہا،
جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے
جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.
بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،
مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.
اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،
چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،
اس نے کہا.
طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،"
بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا،
معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی،
چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.
بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،"
اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے،
بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں.
ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.
کچھ وقت گزرا،
"مصاحب کو بلایا،"
"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان،
بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:
"نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے"
بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،
سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے"
تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔
بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا،
"تجھے کیسے علم ھوا؟؟؟
اس نے کہا،
"بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،،
لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں
"یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں "
کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے.
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
*عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں.

Friday, December 15, 2017

China and Gold as economic Power

               سونا اور چین بحیثیت اقتصادی طاقت         

چند برسوں یا عشروں تک ذر مبادلہ کا معیار امریکی ڈالر کے بجائے سونا ہو گا۔ بین الاقوامی منڈی میں سونا بحیثیت زر مبادلہ دراصل امریکہ کی بین الاقوامی معیشت پر اجارہ داری کی موت ہو گی کیونکہ موجودہ حالت میں امریکی ڈالر کی بین الاقوامی منڈی میں طلب امریکہ کے ذر مبادلہ کے ذخائر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ روس کا سب سے بڑا سبربیک ۲۰۱۸ میں چین کو ۱۰ سے ۱۵ ٹن سونا فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور یہ سلسلہ ۲۰۱۴ سے جاری ہے واضح رہے کہ چینی کرنسی ین اور روسی روبل سو فیصد سونے کے ذخیرہ سے منسلک ہیں۔
چین شنگھائی تعاون کی تنظیم (جس کے اس وقت آٹھ رکن ممالک ہیں اور مستقبل میں بڑھ بھی سکتے ہیں جن میں ہندوستان اور پاکستان بھی شامل ہیں) بریکس اور دیگری اقتصادی تنظیموں کی بلاواسطہ اور بالواسطہ معاونت سے بین الاقوامی تجارتی منڈی پر اپنی دھوک بٹھانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبے کی تکمیل کے بعد چین کی خطے میں اقتصادی برتری کے ساتھ ساتھ سیاسی اور فوجی مداخلت بھی بڑھ جائے گی۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں پہلے ہی وسط ایشیائی ممالک شامل ہیں اور آئندہ چند برسوں میں عرب ممالک بھی چین کی طرف جھکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ایران پہلے ہی ترقیاتی، اقتصادی اور دفاعی معائدوں میں چین سے منسلک ہے اور امریکی پابندیاں اس تعلق کو مزید تقویت دینے کی کڑی ثابت ہو سکتی ہیں۔
  • چین کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ آزادی کے بعد چین میں سیاسی استحکام رہا اور چینی سیاست آمرانہ رویوں سے بالکل نہیں کترائی، بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کا مسئلہ الگ سے دبایا جاتا رہا اور علیحدگی پسند عناصر کو بزور قوت مٹایا جاتا رہا، یک جماعتی سیاسی نظام ہونے کے ساتھ ساتھ چین مختلف معاشی اور سیاسی نظریات کا ملغوبہ رہا ہے اور ابھی تک ہے۔ اسی دوران چین نے انسانی ذرائع کا بھر پور استعمال کیا اور ساتھ ساتھ آبادی کا تناسب بھی ملکی وسائل اور ضروریات کے عین مطابق ترتیب دیا۔ سیاسی جمود تو اپنی جگہ لیکن چین نے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ عسکری سطح پر بھی بھر پور ترقی کی اور جدید ٹیکنالوجی میں بھی یورپ اور امریکہ کے مدمقابل رہا۔
چین کی اس وقت بظاہر عسکری سطح پر انڈیا کے علاوہ کسی سے جنگ نہیں ہے البتہ چین اقتصادی طور پر پورے مغرب سے پنگا لے رہا ہے یورپی یونین گرچہ چین کے فی الحال کے اقدامات سےاتنی متاثر نہیں ہیں مگر مستقبل میں اس پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جبکہ افریکی ممالک کے اقتصادی اتحاد بھی زیادہ متاثر نظر نہیں آ رہے ہیں لیکن مستقبل قریب میں ان کو بھی بڑے فیصلے لینے پڑ سکتے ہیں۔ فی الحال جن ممالک یا جغرافیائی وحدتوں میں چین اپنے پاوں چادر سمیت پھیلا رہا ہے ان کی کل آبادی ساڑھے چار ارب سے زائد بنتی ہے یعنی دنیا کی ستر فیصد آبادی جو کہ انسانی ذرائع کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ یوں اب امریکہ اور چین براہ راست ٹکر میں ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ چین دو ہاتھ آگے ہے تو بے جا نہیں ہو گا۔
امریکی ڈالر فی الحال بین الاقوامی طلب و رسد پر کھڑا ہے بین الاقومی طلب میں اس کی گراوٹ کا مطلب ڈالر کی قدر میں کمی ہے جبکہ مستقبل قریب میں امریکہ کی سیاسی صورتحال کچھ مزید خراب ہوتی نظر آ رہی ہے ان حالات میں امریکن حکمت عملی ساز کیا کریں گے.فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا تاہم چین کی حکمت عملی کم از کم امریکہ کو ایشیائ سے بے دخل کر دے گی۔

Sultan Mehmood Chaudhry's Close Friend Arrested

پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر بیریسٹر سلطان محمود چوہدری کے دوستوں کی گرفتاری اور سلطان محمود چوہدری کے فرار ہونے کی کہانی اس وقت سو...

Popular Posts